Aljamiatul Qadiria Raza-e- Hasnain

Chaudhry Sarai,Sambhal.U.P.(India)
Raza-e-Hasnain
Al Jamia Tul Qadriya Raza-e-Hasnain Sambhal
Click Here
Our Class
Hifz-e-Quran Class
Click Here
Our Libtrary
Jamia Library
Click Here
Computer Lab
Our Lab
Click Here
Previous slide
Next slide

Staff List

No.NameDesignation
1Molana Abrar MisbahiPrincipal
2Qari AbdulqayyumTeacher
3Molana Labib ur RehmanTeacher
4Molana Nazim MarkaziTeacher
5Sufi Mohammad UmarTeacher
6Molana Waseem Raza AmjadiTeacher
7 Molana Rubaid Raza  Teacher
8  
9  
10  

مدارس کی ضرورت

دینی مدارس کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ اسلام کی ،دینی مدارس عہد نبوی سے لے کر آج تک اپنے ایک مخصوص انداز سے آزاد چلے آ رہے ہیں۔ حضورؐ کے دور میں پہلا دینی مدرسہ وہ مخصوص چبو ترہ جس کو "صُفّہ "کہا جا تا ہے اور اس میں حضور ؐ سے تعلیم کتاب تعلیم حکمت اور تز کیہ نفس حاصل کرنے والے حضرت ابو ہریرہؓ ، حضرت انس ؓ سمیت 70کے قریب صحابہ کرام ؓ "اصحابِ صُفّہ "اور سب سے پہلے دینی طا لب علم کہلاتے ہیں۔ دینی مدارس کا اپنا ایک مخصوص نصاب ہوتا ہے جو انتہائی پاکیزہ اور نورانی ماحول میں پڑھا یا جا تا ہے جس میں مستند عالم دین کا مقام حاصل کرنے کے لئے عربی وفارسی ، صرف و نحو، قرآن و حدیث ، تفسیر ، فقہ و اصول فقہ، معانی و ادب ، منطق و فلسفہ جیسے ضروری علوم کا ایک مکمل نصا ب پڑھنے کے بعد وہ عالم دین کے منصب پر فائز ہوتا ہے۔انہی دینی مدرسوں کے بارے میں شا عر مشرق علامہ محمد اقبال نے فرمایا تھا : "ان مکتبوں کو اسی حالت میں رہنے دو ، غریب مسلمانوں کے بچوں کو انہی مدارس میں پڑھنے دو ، اگر یہ ملا اور درویش نہ رہے تو جانتے ہو کیا ہو گا ؟ جو کچھ ہو گا میں انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں۔ اگر ہندوستانی مسلمان ان مدرسوں سے محروم ہو گئے تو بالکل اسی طرح ہو گا جس طرح اندلس میں مسلمانوں کی آٹھ سو برس کی حکومت کے با وجو د آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈ رات اور الحمراء کے نشانات کے سوا اسلام کے پیرؤں اور اسلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش نہیں ملتا ، ہندوستا ن میں بھی آگرہ کے تاج محل اور دلی کے لال قلعے کے سوا مسلمانو ں کی آٹھ سو سالہ حکومت اور ان کی تہذیب کا کوئی نشان نہیں ملے گا"۔ دینی مدارس جہاں اسلام کے قلعے ، ہدایت کے سر چشمے، دین کی پنا ہ گا ہیں ، اور اشا عت دین کا بہت بڑ ا ذریعہ ہیں وہاں یہ دنیا کی سب سے بڑی حقیقی طور پر "این جی اوز "بھی ہیں۔ جو لاکھوں طلبہ و طالبا ت کو بلا معاوضہ تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو رہائش و خوراک اور مفت طبی سہولت بھی فراہم کرتے ہیں۔ ان دینی مدارس نے ہر دور میں تمام ترمصائب و مشکلات ، پابندیوں اور مخالفتوں کے باوجود کسی نہ کسی صورت اور شکل میں اپنا وجود اور مقام برقرار رکھتے ہوئے اسلام کے تحفظ اور اس کی بقاء میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
از قلم ابرار مصباحی صدر المدرسین رضائے حسنین

Scroll to Top